کرکٹ امپائر کے 3 اہم اشارے 2026
کرکٹ امپائر کے اشارے کھیل کے فیصلوں، رنز اور اضافی قوانین کو فوری طور پر واضح کرتے ہیں۔ 2026 میں سب سے اہم اشارہ آؤٹ کا ہے، کیونکہ انگلی اٹھتے ہی وکٹ، بلے باز اور اسکور بورڈ کا فیصلہ بدل جاتا ہے۔ نو ب...
کرکٹ امپائر کے 3 اہم اشارے 2026
کرکٹ امپائر کے اشارے کھیل کے فیصلوں، رنز اور اضافی قوانین کو فوری طور پر واضح کرتے ہیں۔ 2026 میں سب سے اہم اشارہ آؤٹ کا ہے، کیونکہ انگلی اٹھتے ہی وکٹ، بلے باز اور اسکور بورڈ کا فیصلہ بدل جاتا ہے۔ نو بال، وائیڈ، باؤنڈری اور ڈی آر ایس کے اشارے بھی ہر میچ میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ عمومی اہمیت کے لحاظ سے پہلے نمبر پر آؤٹ، دوسرے پر نو بال، اور تیسرے پر باؤنڈری کا اشارہ آتا ہے۔ آئی سی سی کے قوانین، ایم سی سی کے ضابطوں اور ٹی ٹوئنٹی، او ڈی آئی اور ٹیسٹ کرکٹ کے عملی استعمال کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ فیصلہ سمجھنے کے لیے صرف ہاتھ دیکھنا کافی نہیں؛ اشارے کی سمت، وقت اور اسکورر کا ردعمل بھی دیکھیں۔ یہی عادت لائیو میچ کے پیچیدہ لمحے کو فوراً قابلِ فہم بنا دیتی ہے۔

3 اہم کرکٹ امپائر کے اشارے ایک نظر میں
کرکٹ امپائر کے اشاروں میں یہ تین درجے سب سے زیادہ عملی اہمیت رکھتے ہیں: آؤٹ فیصلہ بدلتا ہے، نو بال اضافی رن اور فری ہٹ پیدا کر سکتی ہے، جبکہ باؤنڈری کم وقت میں چار یا چھ رنز کی تصدیق کرتی ہے۔ ان اشاروں کو آئی سی سی اور ایم سی سی کے منظور شدہ قوانین کے تناظر میں سمجھنا زیادہ درست ہے۔
- پہلا: آؤٹ کا اشارہ — امپائر ایک انگلی اوپر اٹھاتا ہے؛ یہ وکٹ گرنے کا حتمی ابتدائی فیصلہ ہے۔
- دوسرا: نو بال کا اشارہ — ایک بازو کندھے کی سطح پر پھیلایا جاتا ہے؛ اس سے اضافی رن اور بعض فارمیٹس میں فری ہٹ ملتی ہے۔
- تیسرا: باؤنڈری کا اشارہ — چار رنز کے لیے بازو کو افقی انداز میں حرکت دی جاتی ہے، جبکہ چھ رنز کے لیے دونوں بازو سر کے اوپر اٹھتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ تماشائی اکثر چار اور چھ کے اشارے کو صرف بازوؤں کی حرکت سمجھتے ہیں، مگر گیند کی زمینی یا فضائی باؤنڈری عبور کرنے کی نوعیت بھی فیصلہ کن ہوتی ہے۔ کرکٹ قوانین کی بنیادی تشریح پڑھنے سے اس فرق کو اسکور کارڈ کے ساتھ ملانا آسان ہو جاتا ہے۔
مزید بنیادی مثالیں دیکھنے کے لیے یہ رہنمائی بھی مفید ہے۔
نمبر 1: آؤٹ کا اشارہ سب سے اہم کیوں ہے؟
آؤٹ کا اشارہ کرکٹ میں وکٹ گرنے کی فوری علامت ہے۔ امپائر عموماً دایاں یا بایاں ہاتھ استعمال کرتے ہوئے ایک انگلی سیدھی اوپر اٹھاتا ہے، جس کا مطلب ہوتا ہے کہ بلے باز کو قانون کے مطابق آؤٹ قرار دیا گیا ہے۔ یہ اشارہ کیچ، ایل بی ڈبلیو، اسٹمپنگ، رن آؤٹ یا ہٹ وکٹ جیسے مختلف طریقوں کے بعد دیا جا سکتا ہے، اگرچہ ہر طریقے کی تصدیق الگ شواہد سے ہوتی ہے۔
آؤٹ کا فیصلہ صرف امپائر کی انگلی تک محدود نہیں رہتا؛ اس کے فوراً بعد اسکورر وکٹ کی تعداد، بلے باز کا نام اور گیندوں کا ریکارڈ اپ ڈیٹ کرتا ہے۔ ٹی ٹوئنٹی میں ایک وکٹ کے بعد دباؤ تیزی سے بڑھتا ہے، کیونکہ عام طور پر 120 گیندوں کی اننگز میں ہر گیند کی قدر زیادہ ہوتی ہے۔ او ڈی آئی میں 50 اوورز اور ٹیسٹ کرکٹ میں پانچ دن تک پھیلا ہوا مقابلہ ہونے کے باعث اسی اشارے کا حکمت عملی پر اثر مختلف ہو سکتا ہے۔
آئی سی سی کے موجودہ ڈی آر ایس نظام میں فیلڈ امپائر کا فیصلہ بعض حالات میں تھرڈ امپائر کے جائزے کے لیے بھیجا جا سکتا ہے۔ تاہم، ہر آؤٹ خودکار طور پر نظرثانی کے لیے نہیں جاتا؛ ٹیم کو دستیاب ریویو، فیصلے کی قسم اور ٹیلی ویژن امپائر کے پروٹوکول کو دیکھنا پڑتا ہے۔ ایم سی سی کے کرکٹ قوانین میں آؤٹ ہونے کے مختلف طریقے الگ الگ بیان کیے گئے ہیں۔
ایک کم زیرِ بحث نکتہ یہ ہے کہ انگلی اٹھنے سے پہلے امپائر کو گیند مکمل طور پر مردہ ہونے کا انتظار کرنا چاہیے۔ مثال کے طور پر کیچ کے بعد فوری اپیل، فیلڈر کے مکمل کنٹرول اور گیند کے قانونی قبضے کی تصدیق ضروری ہو سکتی ہے۔ اسی لیے بلند آواز اپیل ہمیشہ آؤٹ نہیں بنتی؛ فیصلہ اشارے، قانون اور دستیاب ثبوت کے مجموعے سے بنتا ہے۔
نمبر 2: نو بال کا اشارہ کب سب سے زیادہ فائدہ دیتا ہے؟
نو بال کا اشارہ اس وقت دیا جاتا ہے جب گیند کرانے میں قانون کی خلاف ورزی ہو، مثلاً فرنٹ فٹ لائن سے آگے نکلنا یا بعض حالات میں خطرناک باؤنس دینا۔ امپائر ایک بازو کو کندھے کی سطح پر مکمل طور پر پھیلاتا ہے، اور اسکورر عام طور پر ایک اضافی رن درج کرتا ہے۔ محدود اوورز کے میچ میں نو بال اکثر اگلی گیند کو فری ہٹ سے بھی جوڑ دیتی ہے۔
نو بال کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے تین حصے الگ رکھیں: قانونی خلاف ورزی، اضافی رن، اور اس گیند پر بننے والے رنز۔ اگر نو بال پر بلے باز چوکا لگائے تو مجموعی اسکور میں کم از کم پانچ رنز شامل ہو سکتے ہیں؛ اگر چھکا لگے تو کم از کم سات رنز کا اضافہ بنتا ہے۔ وائیڈ، بائی اور لیگ بائی کے ساتھ نو بال کے حساب کی تفصیل صورتِ حال کے مطابق بدل سکتی ہے، اس لیے صرف امپائر کا ہاتھ دیکھنا کافی نہیں۔
ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں نو بال کی قیمت نسبتاً زیادہ محسوس ہوتی ہے، کیونکہ ایک اضافی گیند بیٹنگ ٹیم کو حملہ جاری رکھنے کا موقع دیتی ہے۔ بعض مقابلوں میں فری ہٹ کا اصول نو بال کے بعد اگلی قانونی گیند پر لاگو ہوتا ہے، مگر رن آؤٹ، اسٹمپنگ کے مخصوص حالات اور گیند کے مردہ ہونے کے اصول الگ رہتے ہیں۔ ای ایس پی این کرک انفو کے اسکور کارڈز میں نو بال، فری ہٹ اور اضافی رنز الگ دیکھے جا سکتے ہیں۔
عملی طور پر ایک اہم فرق یہ ہے کہ نو بال کا اشارہ کئی بار گیند کے فوراً بعد آتا ہے، جبکہ آؤٹ کا اشارہ اپیل کے بعد سامنے آتا ہے۔ اگر بلے باز نو بال پر کیچ ہو جائے تو عام طور پر کیچ سے آؤٹ نہیں دیا جا سکتا، لیکن رن آؤٹ یا بعض دیگر قانونی طریقے اب بھی ممکن ہو سکتے ہیں۔ یہی وہ باریک نکتہ ہے جسے عام خلاصے اکثر چھوڑ دیتے ہیں۔

نو بال اور فری ہٹ کے اسکورنگ فرق کو گہرائی سے سمجھنے کے لیے یہ متعلقہ مواد دیکھیں۔
نو بال اور فری ہٹ کی مکمل وضاحت
نمبر 3: باؤنڈری کا اشارہ کیسے پہچانیں؟
باؤنڈری کے اشارے کا مقصد گیند کے چار یا چھ رنز حاصل کرنے کی تصدیق کرنا ہے۔ چار رنز کے لیے امپائر عموماً ایک بازو کو جسم کے سامنے افقی انداز میں دائیں یا بائیں طرف حرکت دیتا ہے، جبکہ چھ رنز کے لیے دونوں بازو سر کے اوپر بلند کیے جاتے ہیں۔ اس فرق کو یاد رکھنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ چار کا اشارہ حرکت پر اور چھ کا اشارہ دونوں بازوؤں کی بلندی پر مبنی ہے۔
چار رنز تب بنتے ہیں جب گیند زمین کو چھوتے ہوئے باؤنڈری تک پہنچے، یا فیلڈر کے جسم سے لگ کر مقررہ حد پار کرے۔ چھ رنز کے لیے گیند کو بلے سے لگنے کے بعد زمین کو چھوئے بغیر باؤنڈری کے پار جانا ضروری ہے۔ جدید میدانوں میں باؤنڈری رسی، اشتہاری کشن اور فیلڈر کے جسم کے رابطے کی پوزیشن فیصلہ بدل سکتی ہے، اس لیے ٹی وی ری پلے کبھی کبھی اہم ہو جاتا ہے۔
یہاں ایک عملی اور کم بیان کیا جانے والا مسئلہ بھی ہے: اگر فیلڈر باؤنڈری کے قریب گیند روکنے کی کوشش کرتے ہوئے رسی کو چھو لے، تو اس کے جسم اور گیند کے رابطے کا وقت دیکھا جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں فیلڈر گیند کو اندر اچھال کر خود باہر جا سکتا ہے، مگر پھر دوبارہ اندر آ کر قانونی طور پر کھیل میں شامل ہونا ضروری ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے تھرڈ امپائر باؤنڈری کیمرہ، سائیڈ اینگل اور الٹرا موشن ری پلے استعمال کرتا ہے۔
کرکٹ گائیڈ کے میچ تجزیوں میں باؤنڈری اشارے کو صرف رنز نہیں بلکہ اننگز کی رفتار کے ساتھ پڑھنا زیادہ مفید ہے۔ مثال کے طور پر پاور پلے میں ایک چھکا مطلوبہ رن ریٹ کم کر سکتا ہے، جبکہ آخری اوور میں وہی چھکا بولنگ منصوبہ مکمل طور پر بدل دیتا ہے۔ کرکٹ کا تاریخی پس منظر پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ امپائرنگ کے اشارے وقت کے ساتھ زیادہ معیاری اور ٹیلی ویژن دوست بنے ہیں۔

باؤنڈری کے فیصلوں کو اسکور، اوور اور رن ریٹ کے ساتھ ملانے کے لیے یہ داخلی رہنمائی کھولیں۔
کرکٹ اسکور کارڈ پڑھنے کا طریقہ
ان اشاروں کی درجہ بندی کے معیارات کیا ہیں؟
ان اشاروں کی درجہ بندی قانون کی اہمیت، میچ کے اسکور پر فوری اثر، ناظرین کے لیے پہچاننے کی آسانی اور ڈی آر ایس سے تعلق کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ آؤٹ کو 40 فیصد وزن اس لیے دیا گیا کہ یہ وکٹ، بلے باز اور ٹیم کی حکمت عملی کو ایک ہی لمحے میں بدل دیتا ہے۔ نو بال کو 35 فیصد اور باؤنڈری کو 25 فیصد وزن ملا، کیونکہ دونوں اسکور پر فوری اثر ڈالتے ہیں مگر وکٹ کے برابر فیصلہ کن نہیں ہوتے۔
درجہ بندی کے بنیادی معیار
- قانونی اثر، 40 فیصد: کیا اشارہ وکٹ یا گیند کی حیثیت بدلتا ہے؟
- اسکورنگ اثر، 30 فیصد: کیا فیصلہ ایک یا اس سے زیادہ فوری رنز پیدا کرتا ہے؟
- میچ کی رفتار، 20 فیصد: کیا اشارہ اگلی گیند یا اوور کی حکمت عملی بدلتا ہے؟
- پہچاننے کی آسانی، 10 فیصد: کیا عام ناظر اسے ری پلے کے بغیر سمجھ سکتا ہے؟
ایم سی سی کے قوانین کے مطابق امپائر کا اشارہ اسکورر، کھلاڑیوں اور تماشائیوں کے درمیان مشترک زبان کا کام کرتا ہے۔ ایک سرکاری رہنمائی میں یہ اصول نمایاں ہے: “امپائر کو ہر اہم فیصلہ واضح اور قابلِ مشاہدہ انداز میں ظاہر کرنا چاہیے۔” اس جملے کا عملی مطلب یہ ہے کہ اشارہ مبہم، مختصر یا کھلاڑیوں کی پشت کی طرف نہیں ہونا چاہیے۔
یہاں ایک مفید مخالفانہ نتیجہ سامنے آتا ہے: ہر مقبول اشارہ سب سے اہم نہیں ہوتا۔ وائیڈ کا اشارہ بہت زیادہ مرتبہ دکھائی دے سکتا ہے، مگر ایک وائیڈ عام طور پر ایک اضافی رن اور ایک اضافی گیند کا موقع پیدا کرتی ہے؛ اس کے برعکس آؤٹ کا ایک فیصلہ پوری اننگز کے رن ریٹ، شراکت اور بولنگ منصوبے کو بدل سکتا ہے۔ اس لیے تکرار کو اہمیت سمجھنا درست تجزیہ نہیں۔
ایک اور قابلِ عمل نکتہ یہ ہے کہ ناظر کو اشارے کے بعد اسکورر کی تبدیلی دیکھنی چاہیے۔ اگر بازو کا اشارہ نظر نہ آئے، تو اسکور کارڈ میں اضافی رنز، وکٹ یا باؤنڈری کی نئی لائن اکثر اصل فیصلہ واضح کر دیتی ہے۔ یہ طریقہ خاص طور پر دھندلے ٹی وی ری پلے، بلند کیمرہ زاویے یا بارش سے متاثرہ میچ میں مفید رہتا ہے۔
آپ کے لیے کون سا اشارہ سب سے ضروری ہے؟
اگر آپ نئے ناظر ہیں تو پہلے آؤٹ، نو بال، وائیڈ، چار اور چھ کے اشارے سیکھیں؛ یہی پانچ نشانیاں زیادہ تر لائیو فیصلوں کو سمجھنے کے لیے کافی ہیں۔ اگر آپ اسکور کارڈ بھی پڑھتے ہیں تو بائی، لیگ بائی، شارٹ رن، پینلٹی رنز اور ڈی آر ایس کے اشارے اگلا اہم مرحلہ ہیں۔ انتخاب کا درست طریقہ آپ کی دیکھنے کی عادت پر منحصر نہیں بلکہ میچ کے فارمیٹ اور آپ کے مقصد پر ہے۔
- ٹی ٹوئنٹی ناظر: نو بال، فری ہٹ، وائیڈ اور باؤنڈری پر توجہ دیں۔
- او ڈی آئی ناظر: آؤٹ، ڈی آر ایس، شارٹ رن اور باؤنڈری کے ری پلے سمجھیں۔
- ٹیسٹ کرکٹ ناظر: ایل بی ڈبلیو، کیچ، ڈیڈ بال، پینلٹی رنز اور امپائر ریویو دیکھیں۔
- اسکورر یا تجزیہ کار: ہر اشارے کو گیند نمبر، اوور، اضافی رنز اور وکٹ کی قسم سے ملائیں۔
آؤٹ اور نو بال میں فوری فرق یاد رکھنے کے لیے انگلی اور پھیلے ہوئے بازو کو ذہنی نشان بنائیں۔ باؤنڈری میں ایک بازو چار اور دونوں بازو چھ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ تاہم، وائیڈ کا اشارہ دونوں بازوؤں کو کندھے کی سطح پر پھیلا کر دیا جاتا ہے، اس لیے اسے نو بال کے ایک بازو والے اشارے سے نہ ملائیں۔
کرکٹ گائیڈ کے لیے بہترین عملی طریقہ یہ ہے کہ اگلے میچ میں کم از کم 10 اوورز کے دوران امپائر کے ہاتھ اور اسکور کارڈ کو ایک ساتھ دیکھیں۔ ہر اشارے کو فوراً نام دیں، پھر اسکور میں تبدیلی نوٹ کریں۔ اس مشق سے محض چند اوورز میں فیصلہ، رن اور گیند کی حیثیت کے درمیان تعلق واضح ہو جاتا ہے۔

اگر آپ اپنی سمجھ کو جدید ریویو نظام تک بڑھانا چاہتے ہیں تو یہ متعلقہ موضوع بھی دیکھیں۔
ڈی آر ایس اور تھرڈ امپائر کے فیصلوں کی رہنمائی
کرکٹ امپائر کے اضافی اشارے جنہیں نظرانداز نہ کریں
آؤٹ، نو بال اور باؤنڈری کے علاوہ کئی اشارے ایسے ہیں جو ایک رن، ایک گیند یا پورے اوور کی قانونی حیثیت بدل سکتے ہیں۔ وائیڈ کے لیے امپائر دونوں بازو کندھوں کی سطح پر پھیلاتا ہے، ڈیڈ بال کے لیے دونوں ہاتھ کمر کے سامنے یا نیچے کراس کیے جاتے ہیں، جبکہ بائی اور لیگ بائی کے اشارے اسکورنگ کی قسم واضح کرتے ہیں۔ ان نشانات کو نظرانداز کرنے سے اسکور کارڈ پڑھنے میں مستقل غلطی ہو سکتی ہے۔
- وائیڈ: دونوں بازو افقی انداز میں پھیلائے جاتے ہیں؛ گیند بلے باز کی قانونی پہنچ سے باہر شمار ہوتی ہے۔
- بائی: گیند بلے یا جسم سے لگے بغیر وکٹ کیپر سے آگے جائے اور رنز بنیں۔
- لیگ بائی: گیند بلے سے نہ لگے، مگر جسم سے لگنے کے بعد رنز بنیں، بشرطیکہ بلے باز نے مناسب شاٹ کی کوشش کی ہو۔
- شارٹ رن: بلے باز مقررہ کریز مکمل نہ کرے؛ امپائر عموماً ایک بازو موڑ کر مخصوص اشارہ دیتا ہے۔
- پینلٹی رنز: قانون کی خلاف ورزی پر پانچ رنز دیے جا سکتے ہیں؛ اس کا اشارہ دیگر عام اضافی رنز سے مختلف ہوتا ہے۔
- ڈی آر ایس ریویو: امپائر اور کھلاڑی ٹی وی امپائر کی طرف نظرثانی کی درخواست ظاہر کرتے ہیں، مگر دستیاب ریویوز مقابلے کے قواعد کے تابع ہوتے ہیں۔
ایک اہم معلوماتی فرق یہ ہے کہ لیگ بائی کا اشارہ ہر جسمانی رابطے پر نہیں دیا جاتا۔ بلے باز کی شاٹ کھیلنے کی کوشش، گیند کی سمت اور رنز لینے کی قانونی حالت دیکھی جاتی ہے۔ اسی طرح بائی اور لیگ بائی ٹیم کے بلے باز کے مجموعے میں شامل نہیں ہوتے، مگر ٹیم کے کل اسکور میں ضرور شامل کیے جاتے ہیں۔
لائیو بیٹنگ یا میچ تجزیے میں یہی تفصیل عملی فائدہ دیتی ہے۔ اگر اضافی رنز کی لائن میں وائیڈ اور نو بال بڑھ رہے ہوں تو بولنگ کی درستگی کمزور ہو سکتی ہے؛ اگر بائی اور لیگ بائی زیادہ ہوں تو وکٹ کیپر، سوئنگ یا شاٹ کے انتخاب کا الگ مسئلہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے امپائر کا اشارہ صرف بصری علامت نہیں بلکہ ٹیم کی کارکردگی کا ڈیٹا پوائنٹ بھی ہے۔
خلاصہ: اشارہ دیکھیں، پھر قانون اور اسکور ملائیں
کرکٹ امپائر کے اشاروں کو سمجھنے کا تیز ترین طریقہ یہ ہے کہ پہلے آؤٹ، نو بال، باؤنڈری، وائیڈ اور ڈیڈ بال کو الگ الگ یاد کیا جائے۔ آؤٹ کی انگلی وکٹ کی خبر دیتی ہے، نو بال کا پھیلا ہوا ایک بازو اضافی رن اور ممکنہ فری ہٹ بتاتا ہے، جبکہ چار اور چھ کے الگ باؤنڈری اشارے رنز کی نوعیت واضح کرتے ہیں۔ 2026 کے جدید میچ میں کیمرہ، ڈی آر ایس اور اسکور کارڈ امپائر کے اشارے کی تصدیق میں مدد دیتے ہیں، مگر بنیادی قانون اب بھی مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ اگلا میچ دیکھتے وقت ہر اشارے کے بعد گیند نمبر، اسکور اور اضافی رنز نوٹ کریں؛ یہی چھوٹی عادت آپ کو عام تماشائی سے باخبر کرکٹ ناظر بنا دے گی۔
مزید عملی کرکٹ تجزیے اور تازہ میچ بصیرت کے لیے کرکٹ گائیڈ کے ساتھ جڑے رہیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سوال: کرکٹ امپائر کا آؤٹ اشارہ کیا مطلب رکھتا ہے؟
جواب: آؤٹ اشارے میں امپائر ایک انگلی اوپر اٹھاتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ بلے باز قانون کے مطابق آؤٹ قرار دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ کیچ، ایل بی ڈبلیو، اسٹمپنگ، رن آؤٹ یا ہٹ وکٹ کے بعد آ سکتا ہے۔ بعض حالات میں ٹیم ڈی آر ایس کے ذریعے فیصلے کی نظرثانی مانگ سکتی ہے، لیکن ریویو کی تعداد اور طریقہ مقابلے کے قواعد پر منحصر رہتا ہے۔
سوال: نو بال کا اشارہ کیسے پہچانا جاتا ہے؟
جواب: نو بال کے لیے امپائر ایک بازو کو کندھے کی سطح پر افقی انداز میں پھیلاتا ہے۔ اس فیصلے سے عام طور پر ایک اضافی رن ملتا ہے، جبکہ محدود اوورز کے مقابلوں میں اگلی گیند فری ہٹ ہو سکتی ہے۔ اگر نو بال پر چوکا یا چھکا لگے تو بلے سے حاصل رنز اور نو بال کا اضافی رن الگ جمع ہوتے ہیں۔
سوال: چار اور چھ کے اشارے میں کیا فرق ہے؟
جواب: چار رنز کے لیے امپائر ایک بازو کو افقی انداز میں حرکت دیتا ہے، جبکہ چھ رنز کے لیے دونوں بازو سر کے اوپر اٹھاتا ہے۔ چار میں گیند عموماً زمین کو چھو کر باؤنڈری تک پہنچتی ہے، جبکہ چھ میں گیند زمین چھوئے بغیر باؤنڈری کے پار جاتی ہے۔ فیلڈر، باؤنڈری رسی اور ری پلے بھی حتمی فیصلے میں اہم ہو سکتے ہیں۔
سوال: وائیڈ اور نو بال کے اشارے میں کیا فرق ہے؟
جواب: وائیڈ میں دونوں بازو افقی طور پر پھیلائے جاتے ہیں، جبکہ نو بال میں عموماً ایک بازو کندھے کی سطح پر پھیلایا جاتا ہے۔ وائیڈ گیند کی قانونی پہنچ سے باہر ہونے کی نشانی ہے، جبکہ نو بال پاؤں، گیند کی اونچائی یا کسی دوسری قانونی خلاف ورزی سے متعلق ہو سکتی ہے۔ دونوں میں اضافی رن ملتا ہے، مگر فری ہٹ کا تعلق خاص طور پر نو بال سے ہوتا ہے۔
سوال: اگر امپائر کا اشارہ واضح نظر نہ آئے تو کیا کرنا چاہیے؟
جواب: اسکور کارڈ، اسکورر کی تبدیلی اور ٹی وی ری پلے کو ملا کر فیصلہ سمجھیں۔ وکٹ کے بعد بلے باز کا نام اور وکٹ نمبر، جبکہ نو بال یا وائیڈ کے بعد اضافی رنز کی لائن اہم ثبوت فراہم کرتی ہے۔ دھندلے زاویے یا شور والے اسٹیڈیم میں صرف تماشائیوں کی آواز پر انحصار نہ کریں، کیونکہ اپیل اور حتمی اشارہ ایک چیز نہیں ہوتے۔
سوال: کرکٹ امپائر کے اشارے سیکھنے میں کتنا وقت لگتا ہے؟
جواب: بنیادی پانچ اشارے عموماً ایک میچ کے دوران یاد کیے جا سکتے ہیں، اگر ناظر انہیں اسکور کارڈ کے ساتھ ملاتا رہے۔ پہلے آؤٹ، نو بال، وائیڈ، چار اور چھ سیکھیں، پھر بائی، لیگ بائی، ڈیڈ بال اور شارٹ رن شامل کریں۔ دس اوورز کی مسلسل مشق میں ہاتھ کی سمت، رنز اور گیند کی قانونی حیثیت کا تعلق خاصا واضح ہو جاتا ہے۔
سوال: کیا ڈی آر ایس امپائر کے اشارے کو ہمیشہ بدل دیتا ہے؟
جواب: نہیں، ڈی آر ایس صرف مخصوص فیصلوں کو نظرثانی کے لیے بھیجتا ہے اور حتمی اختیار مقابلے کے منظور شدہ پروٹوکول کے تحت تھرڈ امپائر کے پاس ہوتا ہے۔ فیلڈ امپائر کا ابتدائی اشارہ اس وقت تک برقرار رہتا ہے جب تک ری پلے اور دستیاب ٹیکنالوجی اسے تبدیل نہ کریں۔ ہر میچ میں ریویوز کی تعداد، فیصلہ جاتی حدود اور امپائر کال کے اصول پہلے سے طے ہوتے ہیں۔
مضمون کا اختتام · کرکٹ گائیڈ