مواد پر جائیں مواد پر جائیں
ایگزیکٹو انٹیلیجنس

۲۰۲۶ کی ٹاپ ۱۰ فیلڈنگ پوزیشنز: بہتر دفاع

کرکٹ میں سب سے اہم فیلڈنگ پوزیشنز سلپ، وکٹ کیپر، گلی، پوائنٹ، کور، مڈ آف، مڈ آن، مڈ وکٹ، اسکوائر لیگ اور فائن لیگ ہیں؛ ان میں سلپ تیز کنارے والے شاٹس کے خلاف اہم پوزیشن سمجھی جاتی ہے۔ پاکستان کرکٹ بور...

19 اکتوبر، 2026 5 min read
۲۰۲۶ کی ٹاپ ۱۰ فیلڈنگ پوزیشنز: بہتر دفاع

۲۰۲۶ کی ٹاپ ۱۰ فیلڈنگ پوزیشنز: بہتر دفاع

کرکٹ میں سب سے اہم فیلڈنگ پوزیشنز سلپ، وکٹ کیپر، گلی، پوائنٹ، کور، مڈ آف، مڈ آن، مڈ وکٹ، اسکوائر لیگ اور فائن لیگ ہیں؛ ان میں سلپ تیز کنارے والے شاٹس کے خلاف اہم پوزیشن سمجھی جاتی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے میدانوں اور کراچی، لاہور و راولپنڈی میں کپتان بابر اعظم یا محمد رضوان پچ کی رفتار، بیٹر کے زاویے اور گیند باز کی لائن کے مطابق یہ جگہیں بدل سکتے ہیں۔ ٹیسٹ کرکٹ میں ۳ سلپ فیلڈرز معمول ہیں، جبکہ ٹی ٹوئنٹی میں دائرے کے اندر صرف ۳۰ گز کی پابندی فیصلہ کن ہوتی ہے۔ شاہین شاہ آفریدی کی سوئنگ کے لیے فائن سلپ مفید ہے، مگر اسپنر کے خلاف شارٹ کور زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے۔ عملی سفارش یہ ہے کہ پوزیشن کا نام یاد کرنے کے بجائے ہر جگہ کا رن روکنے اور کیچ لینے کا زاویہ سمجھیں۔

سبز کرکٹ میدان میں کپتان فیلڈرز کو سلپ اور کور پوزیشنز سمجھاتے ہوئے

ٹاپ ۱۰ فیلڈنگ پوزیشنز ایک نظر میں

یہ درجہ بندی پوزیشن کی عالمی اہمیت نہیں بلکہ اس کے عام استعمال، خطرے کی شدت اور رنز بچانے کی صلاحیت پر مبنی ہے۔ ایم سی سی کے قوانین میں فیلڈنگ کی جگہوں کے نام باقاعدہ نقشے کی طرح مقرر نہیں کیے گئے، اس لیے کپتان بابر اعظم، کین ولیمسن یا جو روٹ حالات کے مطابق معمولی تبدیلی کر سکتے ہیں۔ میرٹ ویکیپیڈیا پر کرکٹ فیلڈنگ میں بھی یہی بنیادی تصور بیان کیا گیا ہے کہ فیلڈنگ ترتیب گیند باز، بیٹر اور میچ کی صورت حال سے جڑی ہوتی ہے۔

  1. سلپ: کنارے لگنے والی گیند کے کیچ کے لیے نمبر ایک انتخاب۔
  2. وکٹ کیپر: ہر گیند پر فعال، اسٹمپنگ اور وائیڈ گیندوں کا مرکزی محافظ۔
  3. گلی: کٹ اور موٹی ایج کے خلاف تیز ردعمل والی جگہ۔
  4. پوائنٹ: آف سائیڈ کے کٹ شاٹس اور سنگل روکنے کے لیے مؤثر۔
  5. کور: ڈرائیو کے راستے میں رنز کا بڑا حصہ کم کرتا ہے۔
  6. مڈ آف: سیدھے ڈرائیو اور ایک رن کے خلاف اہم پوزیشن۔
  7. مڈ آن: فلک، ڈرائیو اور تیز دوڑ کو قابو کرتی ہے۔
  8. مڈ وکٹ: پل اور ہک شاٹس کے خلاف عام طور پر مصروف رہتی ہے۔
  9. اسکوائر لیگ: لیگ سائیڈ کے فلک اور پیڈ سے نکلنے والے شاٹس روکتی ہے۔
  10. فائن لیگ: پیڈل، گلانس اور شارٹ فائن شاٹس کے لیے آخری حفاظتی دیوار ہے۔

اگر آپ کو بنیادی اصطلاحات کے ساتھ میدان کا مکمل نقشہ چاہیے تو ابتدائی کرکٹ فیلڈنگ گائیڈ بھی مفید رہے گا۔

مزید عملی مثالیں دیکھنے کے لیے یہ مختصر رہنمائی محفوظ کر لیں۔

مزید جانیں

نمبر ایک سلپ: کنارے والے کیچ کی بہترین جگہ

سلپ فیلڈر دائیں ہاتھ کے بیٹر کے آف اسٹمپ کے باہر، وکٹ کیپر کے نسبتاً پیچھے کھڑا ہوتا ہے اور اس کا بنیادی کام بیٹ کا کنارہ لگنے والی گیند پکڑنا ہے۔ ٹیسٹ میچ میں ایک سے تین سلپ فیلڈرز عام ہیں، جبکہ محدود اوورز میں نئی گیند کے پہلے ۲ سے ۵ اوورز کے دوران یہ پوزیشن زیادہ دیکھی جاتی ہے۔ شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ اور جیمز اینڈرسن جیسے سوئنگ گیند بازوں کی گیند اندر یا باہر حرکت کرے تو سلپ کا ردعمل وقت تقریباً ایک سیکنڈ سے بھی کم رہ جاتا ہے۔ فیلڈر کو ایڑیوں پر وزن، گھٹنے قدرے جھکے اور ہاتھ سینے کے سامنے رکھنے چاہییں؛ سیدھا کھڑا ہونا ردعمل سست کر دیتا ہے۔

سلپ کی اصل قدر صرف کیچ نہیں بلکہ بیٹر پر ذہنی دباؤ بھی ہے۔ اگر محمد رضوان کے خلاف آف اسٹمپ سے باہر مسلسل گیندیں ہوں تو کپتان ایک سلپ اور گلی دونوں رکھ سکتا ہے، مگر ٹی ٹوئنٹی میں ۳۰ گز کے دائرے اور فیلڈنگ پابندیوں کی وجہ سے یہی ترتیب محدود ہو جاتی ہے۔ ایک کم معروف نکتہ یہ ہے کہ سلپ کی جگہ گیند باز کی رفتار سے نہیں، گیند کے بیٹ تک پہنچنے کے بعد متوقع انحراف سے طے ہونی چاہیے؛ تیز گیند کے لیے فیلڈر عموماً پیچھے اور اسپن کے لیے قریب آتا ہے۔

نمبر دو وکٹ کیپر: ہر گیند کا نگران

وکٹ کیپر بیٹر کے بالکل پیچھے کھڑا واحد فیلڈر ہے جو ہر گیند پر براہ راست کھیل میں شامل رہتا ہے۔ اس کی ذمہ داری کیچ، اسٹمپنگ، بائی، وائیڈ، رن آؤٹ کے لیے گیند واپس کرنا اور گیند باز کو زاویے سے متعلق اشارہ دینا ہے۔ پاکستان کے محمد رضوان اور انگلینڈ کے جوس بٹلر جیسے کیپرز کے لیے دستانوں کی پوزیشن گیند کی رفتار کے ساتھ بدلتی ہے؛ فاسٹ بولر کے خلاف وہ عموماً پیچھے، اسپنر کے خلاف اسٹمپ کے قریب کھڑے ہوتے ہیں۔ آئی سی سی کے کرکٹ قوانین میں وکٹ کیپر کی مخصوص پابندیاں اور کیچ کے اصول درج ہیں۔

وکٹ کیپر کی ایک عملی ذمہ داری اسکور بورڈ پر نظر رکھنا بھی ہے۔ اگر ہدف ۱۸۰ رنز ہو اور آخری ۵ اوورز میں ۶۰ رنز درکار ہوں تو کیپر کپتان کو باؤنڈری فیلڈرز، دوڑ کے خطرے اور وائیڈ لائن کے بارے میں فوری معلومات دیتا ہے۔ یہاں ایک مفید مگر نظرانداز شدہ فرق ہے: اسپنر کے خلاف کیپر کا ایک قدم آگے ہونا صرف اسٹمپنگ کا موقع نہیں بناتا، بلکہ بیٹر کو کریز سے باہر نکلنے سے بھی روکتا ہے۔

نمبر تین گلی: کٹ شاٹ کا خطرناک زاویہ

گلی پوزیشن سلپ کے باہر، پوائنٹ کے نسبتاً پیچھے ہوتی ہے اور موٹی ایج، لیٹ کٹ یا جسم سے دور کھیلے گئے شاٹس کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ یہ جگہ عموماً تیز ہاتھ، کم ردعمل وقت اور اچھی پیش بینی مانگتی ہے، اس لیے ہر فیلڈر یہاں یکساں مؤثر نہیں ہوتا۔ ٹیسٹ کرکٹ میں گلی کا فیلڈر نئی گیند کے دوران خاص اہمیت رکھتا ہے، جبکہ ون ڈے میں دائرے کی پابندی کے باعث اسے اندر یا باہر منتقل کیا جا سکتا ہے۔ سچن ٹنڈولکر، ویرات کوہلی اور بابر اعظم جیسے بیٹر اگر پوائنٹ کے باہر جگہ بنائیں تو گلی کا زاویہ ان کے کٹ شاٹ کی طاقت کم کر سکتا ہے۔

پوائنٹ اور گلی میں فرق یاد رکھنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ پوائنٹ بیٹر کے مربع حصے کے قریب ہوتا ہے، جبکہ گلی زیادہ پیچھے اور سلپ کے قریب رہتی ہے۔ اگر گیند باز آف کٹر کر رہا ہو تو گلی کو ایک یا دو قدم اندر لانا ایج کے کیچ کا امکان بڑھاتا ہے، لیکن بہت قریب کھڑا فیلڈر تیز گیند پر وقت کھو سکتا ہے۔ کرکٹ گائیڈ کے میچ تجزیوں میں یہی عملی نکتہ بار بار سامنے آتا ہے کہ پوزیشن کا نام کافی نہیں؛ گیند کی رفتار، پچ اور بیٹر کا پسندیدہ شاٹ بھی ساتھ پڑھنا ضروری ہے۔

سرخ گیند کے ساتھ گلی پوزیشن میں جھکا ہوا فیلڈر، پس منظر میں وکٹ اور سلپ کارڈن

کیا پوائنٹ، کور اور مڈ آف ایک جیسے ہیں؟

پوائنٹ، کور اور مڈ آف تینوں آف سائیڈ پر ہوتے ہیں، مگر ان کے زاویے اور بنیادی اہداف مختلف ہیں: پوائنٹ کٹ شاٹ، کور ڈرائیو اور مڈ آف سیدھے ڈرائیو یا سنگل کو روکتا ہے۔ بائیں ہاتھ کے بیٹر کے خلاف ان پوزیشنز کا رخ تقریباً آئینے کی طرح بدل جاتا ہے، اس لیے صرف نام یاد کرنا کافی نہیں۔ محدود اوورز میں ۳۰ گز کا دائرہ، پاور پلے کے پہلے ۶ اوورز اور آخری ۵ اوورز کی فیلڈنگ پابندیاں ان کے فاصلے کو بدلتی ہیں۔

کور فیلڈر عموماً کور ڈرائیو کے راستے میں چوڑا کھڑا ہوتا ہے، جبکہ پوائنٹ بیٹر کے مربع کٹ کو روکنے کے لیے زیادہ سیدھی لائن لیتا ہے۔ مڈ آف کے لیے فیلڈر کو کپتان کے ساتھ یہ طے کرنا چاہیے کہ ترجیح سنگل روکنا ہے یا کیچ کا موقع بنانا؛ بہت آگے آنے سے اس کے پیچھے ڈرائیو کا راستہ کھل سکتا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈومیسٹک مقابلوں میں بھی پچ کی رفتار اور اوورز کی تعداد کے مطابق یہی بنیادی فیلڈنگ اصول لاگو ہوتے ہیں۔

مختصر فیصلہ یہ ہے:

  • کٹ شاٹ غالب ہو: پوائنٹ کو مضبوط کریں۔
  • فل ڈرائیو کا خطرہ ہو: کور کو چوڑا یا اندر کریں۔
  • سیدھا بیٹ اور سنگل اہم ہو: مڈ آف کو پچ کے قریب رکھیں۔
  • نئی گیند سوئنگ کرے: کور کے ساتھ سلپ یا گلی کو ترجیح دیں۔

فیلڈ سیٹ کرنے کی مزید مثالوں کے لیے بیٹنگ شاٹس کے مطابق فیلڈ سیٹنگ ملاحظہ کریں۔

اب پوزیشنز کو میچ کی صورت حال سے جوڑنے کا وقت ہے۔

فیلڈنگ حکمت عملی دیکھیں

نمبر چار مڈ وکٹ: پل شاٹ کے خلاف مرکزی دیوار

مڈ وکٹ لیگ سائیڈ پر بیٹر کے سامنے اور اسکوائر لیگ سے قدرے آگے واقع ہوتی ہے، اس لیے پل، ہک، فلک اور اندر سے آنے والی ڈرائیو کے خلاف اہم کردار ادا کرتی ہے۔ دائیں ہاتھ کے بیٹر کے لیے یہ جگہ عموماً اس وقت خطرناک ہوتی ہے جب گیند ٹانگوں یا جسم کی لائن پر ہو؛ کلائی سے کھیلا گیا فلک مڈ وکٹ کے فیلڈر کو متحرک رکھ سکتا ہے۔ اگر گیند باز یارکر یا آف اسٹمپ سے باہر گیند کرے تو مڈ وکٹ کا کردار بدل کر سنگل روکنے تک محدود ہو جاتا ہے۔

اسکوائر لیگ اور مڈ وکٹ کا فاصلہ میچ کی رفتار پر منحصر ہے۔ ٹی ٹوئنٹی میں باؤنڈری روکنے کے لیے مڈ وکٹ کو اندر رکھنے سے دو رنز کم ہو سکتے ہیں، مگر گیند اگر بیٹر کے بلے کے بیچ میں آئے تو یہی فیلڈر باؤنڈری سے باہر کھڑا ہونا چاہے گا۔ ایک قابلِ عمل اصول یہ ہے کہ بیٹر کا آخری ۱۰ گیندوں کا شاٹ نقشہ دیکھا جائے؛ اگر ۶ یا اس سے زیادہ شاٹس لیگ سائیڈ پر ہوں تو مڈ وکٹ کو محض روایتی جگہ پر نہ رکھیں، بلکہ زاویہ بیٹر کے پسندیدہ شاٹ کے مطابق بنائیں۔

نمبر پانچ اسکوائر لیگ اور فائن لیگ

اسکوائر لیگ بیٹر کے برابر لیگ سائیڈ پر ہوتی ہے اور فلک، پیڈ سے نکلنے والی گیند، سوئپ اور نرم ہاتھ سے کھیلے گئے شاٹس کو روکتی ہے۔ فائن لیگ اس کے پیچھے، وکٹ کے قریب زاویے پر رہتی ہے اور گلانس، پیڈل سوئپ، وائیڈ یارکر کے کنارے اور باؤنڈری کی طرف مڑتی گیندوں کے لیے آخری رکاوٹ بنتی ہے۔ اسپنر کے خلاف اسکوائر لیگ اکثر ۳۰ گز کے دائرے میں رکھی جاتی ہے، مگر فاسٹ بولر کے خلاف فائن لیگ باؤنڈری پر بھیجی جا سکتی ہے، خاص طور پر جب بیٹر بار بار گیند کو وکٹ کے پیچھے کھیل رہا ہو۔

ان دونوں جگہوں میں مواصلت نہایت اہم ہے کیونکہ کیپر، بولر اور اسکوائر لیگ فیلڈر ایک ہی شاٹ کے مختلف ممکنہ راستے دیکھتے ہیں۔ اگر شاہین شاہ آفریدی کا باؤنسر بیٹر کے جسم کی طرف جائے تو فائن لیگ کو بہت سیدھا رکھنے کے بجائے ہک کے زاویے پر رکھنا زیادہ منطقی ہو سکتا ہے۔ اسی طرح آف اسپنر کے خلاف شارٹ فائن لیگ بیٹر کے پیڈل شاٹ کو روک سکتی ہے، مگر اس کے لیے فیلڈر کو گیند کی رفتار سے پہلے حرکت شروع کرنا پڑتی ہے۔

مڈ وکٹ اور اسکوائر لیگ پر دو فیلڈرز، شام کے میچ میں باؤنڈری رسی کے قریب تیار

یہ ٹاپ ۱۰ کیسے مرتب کی گئی؟

یہ فہرست چار معیاروں پر مبنی ہے: کیچ کے مواقع، رنز روکنے کی صلاحیت، مختلف فارمیٹس میں استعمال اور کپتان کے لیے حکمت عملی کی لچک۔ اس ترتیب میں سلپ کو کیچ کے امکان اور نئی گیند کے اثر کی وجہ سے پہلا مقام دیا گیا ہے، جبکہ وکٹ کیپر مستقل شمولیت کے باعث دوسرے نمبر پر ہے۔ اس طریقے سے روایتی مقبولیت کے بجائے ہر پوزیشن کے عملی نتیجے کو وزن دیا گیا ہے۔

درجہ بندی کو ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کے فرق سے بھی درست کیا گیا ہے۔ ٹیسٹ میں سلپ، گلی اور شارٹ لیگ زیادہ نمایاں رہتے ہیں؛ ون ڈے میں کور، پوائنٹ اور باؤنڈری فیلڈنگ کا توازن اہم ہوتا ہے؛ ٹی ٹوئنٹی میں فائن لیگ، ڈیپ مڈ وکٹ اور ڈیپ اسکوائر لیگ ایک گیند پر ۴ یا ۶ رنز روکنے کے لیے فیصلہ کن بنتے ہیں۔ ایم سی سی کے قوانین کے مطابق فیلڈنگ پابندیاں ہر فارمیٹ کے مخصوص ضوابط سے جڑی ہیں، اس لیے ایک ہی پوزیشن کو ہر میچ میں یکساں نمبر دینا درست نہیں ہوگا۔

ایک کم عام مگر اہم edge case یہ ہے کہ ۲۰ اوورز کے میچ میں آخری ۵ اوورز کے دوران باؤنڈری فیلڈر کو اندر لانے سے زیادہ فائدہ ہمیشہ نہیں ہوتا؛ اگر بیٹر کا مطلوبہ ہدف ۱۲ رنز فی اوور ہو تو ایک اضافی سنگل روکنے کے بجائے باؤنڈری روکنا زیادہ قیمتی ہے۔ اس کے برعکس ٹیسٹ میچ میں ۴۰ اوورز تک ایک ہی جگہ برقرار رکھنا بیٹر کے شاٹ انتخاب پر دباؤ پیدا کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فیلڈنگ کی بہترین پوزیشن اسکور، اوورز، گیند اور بیٹر کے امتزاج سے نکلتی ہے۔

اپنی ٹیم کے فارمیٹ کے مطابق معیار کو مزید سمجھنے کے لیے ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی فیلڈنگ فرق پڑھیں۔

یہ عددی فریم ورک کپتان کو جذباتی فیصلے کے بجائے قابلِ وضاحت انتخاب دیتا ہے۔

مکمل فہرست دیکھیں

آپ کو کون سی فیلڈنگ پوزیشن منتخب کرنی چاہیے؟

اگر آپ نئے کھلاڑی ہیں تو پوائنٹ، کور یا اسکوائر لیگ سے آغاز کریں، کیونکہ یہاں گیند کا راستہ نسبتاً واضح ہوتا ہے اور کیچ کے ساتھ گراؤنڈ فیلڈنگ کی مشق بھی ہو جاتی ہے۔ تیز ردعمل رکھنے والے کھلاڑی سلپ یا گلی آزما سکتے ہیں، جبکہ مضبوط تھرو اور باؤنڈری رفتار رکھنے والے کھلاڑی مڈ وکٹ، فائن لیگ یا ڈیپ کور میں بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔ وکٹ کیپنگ الگ مہارت ہے، جس کے لیے دستانوں، فٹ ورک اور مسلسل توجہ کی تربیت درکار ہوتی ہے۔

منتخب کرنے کا سادہ طریقہ یہ ہے:

  1. اپنی غالب سمت، ردعمل وقت اور تھرو کی طاقت نوٹ کریں۔
  2. پوائنٹ یا کور پر گراؤنڈ فیلڈنگ کی مشق کریں۔
  3. سلپ یا گلی میں نرم ہاتھ سے کیچ پکڑنے کی مشق کریں۔
  4. ہر مشق میں روکنے، چھونے، چھوڑنے یا کیچ کرنے کی کارکردگی کا ریکارڈ رکھیں۔
  5. جس پوزیشن میں کارکردگی بہتر ہو، اسے اپنی بنیادی جگہ بنائیں۔
  6. میچ کے فارمیٹ کے مطابق دوسری پوزیشن بھی سیکھیں۔

متفق ہونا ضروری نہیں، مگر صرف یہ کہنا کہ “باؤنڈری پر بہترین فیلڈر کھڑا کرو” کافی نہیں۔ بہترین فیلڈر وہاں ہونا چاہیے جہاں متوقع شاٹ، گیند کی رفتار اور رنز کی قیمت ایک دوسرے سے ملیں۔ کرکٹ گائیڈ کی روزانہ پی ایس ایل کوریج، کھلاڑیوں کے اعدادوشمار اور باؤلنگ حکمت عملی اسی زاویے سے فیلڈ سیٹنگ کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔

حتمی انتخاب

اگر ایک ہی پوزیشن چننی ہو تو نئی گیند کے لیے سلپ، اسپن کے لیے شارٹ کور یا اسکوائر لیگ، اور ٹی ٹوئنٹی کے آخری اوورز کے لیے ڈیپ مڈ وکٹ یا فائن لیگ منتخب کریں۔ کپتان کو ہر اوور کے آغاز پر کم از کم تین سوال پوچھنے چاہییں: بیٹر کا مضبوط شاٹ کیا ہے، گیند کہاں پچ ہوگی، اور ایک باؤنڈری روکنے کی قیمت ایک سنگل سے کتنی زیادہ ہے؟ یہ طریقہ ناموں کی فہرست کو حقیقی حکمت عملی میں بدل دیتا ہے۔

رات کے ٹی ٹوئنٹی میچ میں فیلڈنگ نقشہ دیکھتا ہوا کپتان، روشن اسٹیڈیم اور دباؤ کا ماحول

فیلڈنگ پوزیشنز کے نام یاد کرنے کے بعد اگلا قدم ہر جگہ کے زاویے، فاصلہ اور ذمہ داری کو مشق میں شامل کرنا ہے۔ سب سے مضبوط بنیادی مجموعہ سلپ، وکٹ کیپر، پوائنٹ، کور، مڈ آف، مڈ آن، مڈ وکٹ، اسکوائر لیگ، فائن لیگ اور گلی پر مشتمل ہے۔ اپنے کھیل کے انداز کے مطابق دو بنیادی اور دو متبادل پوزیشنز منتخب کریں، پھر ۱۰، ۲۰ اور ۵۰ اوورز کے لیے الگ فیلڈ پلان بنائیں۔ یہی منظم تیاری کیچ، روک تھام اور میچ کے نتیجے میں فرق ڈال سکتی ہے۔

اپنی فیلڈنگ سمجھ کو اگلے میچ میں استعمال کرنے کے لیے یہ آخری رہنمائی دیکھیں۔

ابھی حکمت عملی سیکھیں

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: کرکٹ میں فیلڈنگ پوزیشنز کے نام کیا ہیں؟

جواب: بنیادی فیلڈنگ پوزیشنز سلپ، وکٹ کیپر، گلی، پوائنٹ، کور، مڈ آف، مڈ آن، مڈ وکٹ، اسکوائر لیگ اور فائن لیگ ہیں۔ ان کے علاوہ تھرڈ مین، شارٹ لیگ، ڈیپ کور، ڈیپ مڈ وکٹ اور ڈیپ اسکوائر لیگ بھی استعمال ہوتی ہیں۔ پوزیشن کا درست فاصلہ فارمیٹ، گیند باز اور بیٹر کے شاٹ کے مطابق بدلتا ہے۔

سوال: سلپ فیلڈر کہاں کھڑا ہوتا ہے؟

جواب: سلپ فیلڈر وکٹ کیپر کے دائیں یا بائیں پیچھے، بیٹر کے آف سائیڈ کنارے کے قریب کھڑا ہوتا ہے۔ دائیں ہاتھ کے بیٹر کے خلاف سلپ عموماً آف اسٹمپ کے باہر رکھی جاتی ہے، جبکہ بائیں ہاتھ کے بیٹر کے لیے سمت تبدیل ہو جاتی ہے۔ سوئنگ گیند باز کے خلاف سلپ کی گہرائی گیند کی رفتار اور متوقع ایج کے مطابق طے کی جاتی ہے۔

سوال: پوائنٹ اور کور میں کیا فرق ہے؟

جواب: پوائنٹ بیٹر کے مربع آف سائیڈ پر کٹ شاٹ روکتا ہے، جبکہ کور زیادہ آگے اور چوڑے زاویے سے کور ڈرائیو کا راستہ بند کرتا ہے۔ پوائنٹ عموماً بیٹر کے ہاتھوں کے برابر یا قدرے پیچھے ہوتا ہے، کور پوزیشن ڈرائیو کے ممکنہ راستے پر منحصر ہوتی ہے۔ دونوں جگہوں پر اچھا فٹ ورک اور تیز تھرو بنیادی ضرورت ہیں۔

سوال: ٹی ٹوئنٹی میں بہترین فیلڈنگ پوزیشن کون سی ہے؟

جواب: ٹی ٹوئنٹی میں ایک ہی بہترین پوزیشن نہیں، مگر آخری ۵ اوورز میں ڈیپ مڈ وکٹ، ڈیپ اسکوائر لیگ اور فائن لیگ اکثر سب سے قیمتی ہوتی ہیں۔ ان جگہوں پر ایک باؤنڈری روکنے سے ۴ یا ۶ رنز بچ سکتے ہیں۔ پاور پلے کے پہلے ۶ اوورز میں سلپ، پوائنٹ اور کور زیادہ اہم ہو سکتے ہیں۔

سوال: فیلڈنگ پوزیشنز سیکھنے کا آسان طریقہ کیا ہے؟

جواب: پہلے میدان کو آف سائیڈ اور لیگ سائیڈ میں تقسیم کریں، پھر ۱۰ بنیادی پوزیشنز کا نقشہ بنائیں۔ ہر پوزیشن پر ۱۰ گراؤنڈ گیندیں اور ۱۰ کیچ کی مشق کریں، اور روکنے یا کیچ کی کامیابی لکھیں۔ سات دن تک یہ ریکارڈ رکھنے سے کھلاڑی کو اپنی مضبوط جگہ اور کمزور ردعمل دونوں واضح نظر آ جاتے ہیں۔

سوال: فیلڈنگ پوزیشنز کی تربیت پر کتنا خرچ آتا ہے؟

جواب: بنیادی فیلڈنگ پوزیشنز سیکھنے کے لیے کوئی لازمی خرچ نہیں؛ کھلا میدان، ٹینس گیند اور ایک ساتھی کافی ہیں۔ مقامی کرکٹ اکیڈمی میں ماہانہ فیس شہر اور کوچ کے لحاظ سے تقریباً ۲,۰۰۰ سے ۱۰,۰۰۰ پاکستانی روپے ہو سکتی ہے۔ دستانے، کونز اور کیچنگ پیڈ الگ سامان ہیں، اس لیے خریدنے سے پہلے اپنی پوزیشن طے کریں۔

سوال: اگر فیلڈر مسلسل کیچ چھوڑ رہا ہو تو کیا کرے؟

جواب: فیلڈر کو پہلے پوزیشن کا فاصلہ، جسمانی توازن اور ہاتھوں کی شکل درست کرنی چاہیے۔ ۵ میٹر سے نرم کیچ شروع کریں، پھر رفتار اور فاصلے کو ہر پانچ کامیاب کوششوں کے بعد بڑھائیں۔ سلپ اور گلی میں ہاتھ جسم سے دور پھیلانے کے بجائے انگلیاں اوپر یا نیچے زاویے کے مطابق رکھیں، اور ہر ڈرل میں کم از کم ۳۰ کوششوں کا ریکارڈ بنائیں۔

کرکٹ گائیڈ کے مزید میچ جائزوں اور فیلڈنگ حکمت عملی کے لیے یہ آخری رابطہ استعمال کریں۔

کرکٹ گائیڈ ملاحظہ کریں

متعلقہ مضامین